ایتھنز ،5؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے مطابق یونان میں باسٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن پھنسے ہوئے ہیں۔ استقبالیہ مراکز پر یونان اور یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے بعد ان تارکین وطن کی اکثریت ابھی تک فیصلوں کے انتظار میں ہے۔یورو اسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جنوری اور مارچ کے درمیان ساڑھے سولہ ہزار غیر ملکیوں نے یونان میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں جب کہ گزشتہ برس کے پہلے تین ماہ کے دوران یونان میں پہلی مرتبہ پناہ کی درخواستیں جمع کرانے والوں کی تعداد قریب پانچ ہزار رہی تھی۔پاکستانی صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان تارک وطن کے مطابق وہ اپنی والدہ کا زیور بیچ کر اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر یونان تک پہنچا ہے اور کسی صورت واپس نہیں جائے گا۔
عام طور پر پہلے اسکائپ کے ذریعے یونانی اسائلم سروس کے دفتر سے وقت لیا جاتا ہے جس کے بعد یونانی پناہ کے دفتر میں انٹرویو کے لیے جانا ہوتا ہے۔ انٹرویو کے دوران یونان میں پناہ کے حصول کے اسباب کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور ان اسباب کی روشنی میں پناہ دینے یا نہ دینے کی بابت فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔ اپیل کی صورت میں دوبارہ انٹرویو کے لیے طلب کیا جاتا ہے۔
یونان کے حراستی مرکز میں پھنسے ہونے کی صورت میں اس مرکز میں حکام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ درخواست کے بعد یونانی اسائلم سروس کے دفتر میں انٹرویو کا بندوبست حراستی مرکز کے حکام ہی کرتے ہیں۔پناہ کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک تارکین وطن کو یونان سے باہر کسی دوسرے ملک جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
عام طور پر پناہ کی درخواستوں پر فیصلے چھ ماہ کے اندر اندر کر دیے جاتے ہیں تاہم پہلے سے جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر اسے سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔جو ہزاروں پاکستانی تارکین وطن اپنے گھروں سے نکلے، ان کی منزل جرمنی و مغربی یورپی ممالک، اور خواہش ایک بہتر زندگی کا حصول تھی۔ شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ خطرناک پہاڑی اور سمندری راستوں پر زندگی داؤ پر لگانے کے بعد انہیں ایتھنز میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں بیت الخلا صاف کرنا پڑیں گے۔
سن 1951کے جنیوا کنونش کے تحت مہاجر سمجھے جانے والے افراد یونان میں پناہ کے حصول کے حق دار سمجھے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں کسی خاص مذہب یا نسلی گروہ سے وابستگی، قومیت، معاشرتی گروہ، جنس یا جنسی رجحان کی بنیاد پر اپنے آبائی وطنوں میں مظالم کا شکار ہو کر ترک وطن پر مجبور ہونے والے افراد بھی سیاسی پناہ کی درخواستیں دے سکتے ہیں۔ان وجوہات کے علاوہ کسی اور وجہ سے اپنے وطن میں جان کو لاحق خطرے کی صورت میں ہجرت کر کے پناہ کی تلاش میں یونان پہنچنے والوں کو عارضی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین کے مہاجرین سے متعلق دو معاہدوں کا اطلاق یونانی پناہ کے قانون پر بھی ہوتا ہے۔ یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے ہونے والے معاہدے کے مطابق ترکی سے یونان آنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیج دیا جاتا ہے۔اس معاہدے پر عمل درآمد گزشتہ برس بیس مارچ سے جاری ہے۔ ترکی سے غیر قانونی طور پر یونان آنے والے شامی مہاجرین کو بھی واپس ترکی بھیج دیا جاتا ہے تاہم ایسے ہر مہاجر کے بدلے یورپی یونین ترکی کے مہاجر کیمپوں میں مقیم ایک شامی مہاجر کو قانونی طریقے سے یونین کے رکن ممالک لا کر آباد کرتی ہے۔اس کے علاوہ یورپی یونین میں مہاجرین کی لازمی تقسیم کے کوٹے کے تحت یونان اور اٹلی میں مقیم ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو یونین کے دیگر رکن ممالک میں آباد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ یورپی یونین کا یہ معاہدے ستمبر 2015میں طے پایا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔